میرا قائد – ہم نے جنگ ہاری ہے حوصلہ نہیں ہارا @QamarzKaira

5 January 1928 – 4 April 1979 — Zulfiqar Ali Bhutto Peoples Leader & founder Pakistan Peoples Party was the ninth Prime Minister of Pakistan (1973–77) and its fourth President (1971–73)

5 January 1928 – 4 April 1979 — Zulfiqar Ali Bhutto Peoples Leader & founder Pakistan Peoples Party was the ninth Prime Minister of Pakistan (1973–77) and its fourth President (1971–73)

(قمر زمان کائرہ (06 جنوری 2011

قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے 5جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں جنم لیا ۔آپکے والد سر شاہنواز خان بھٹو کو برصغیر کی سیاست میں اہم مقام حاصل تھا ۔ آپ نے سندھ کو بمبئی سے الگ کروایا تھا تاکہ سندھ کے عوام کو سرکاری یاعدالتی کام کی وجہ سے طویل اور تکلیف دہ سفر کی زحمت سے بچایا جاسکے ۔ سرشاہنواز خان بھٹو نے اپنے صاحبزادے جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی تربیت پر خاص تو جہ دی تھی اس حوالے سے وہ آپ کو اپنے خاندان کی عزت ، وقار ، بہادری اور انسانیت کی خدمت کے قصے سنایا کرتے تھے جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو غربیوں کی مدد اور مظلوموں کی حمایت کی نصیحت کیا کرتی تھیں ۔ قائد عوام بھٹو شہید نے اپنے خاندان کی عزت ، وقار اور بہادری کے پس منظر اور والدہ ماجدہ کی طرف سے کی ہوئی نصیحتوں کو اپنی شخصیت میں ڈھال دیا تھا ۔ روایت ہے کہ ۔
1935ء کے دوران سر شاہنوا زخان بھٹو بمبئی میں وزیر تھے ۔برطانوی راج کا زمانہ تھا ایک دن گورنر لارڈ برابورن نے سر شاہنوا زخان بھٹو کو اپنے صاحبزادوں کے ساتھ کھانے پر مدعو کیا ۔ سر شاہنوا ز خان بھٹوکے بڑے صاحبزادے امداد علی خان بھٹو انتہائی خوب صورت نوجوان تھے سے مصا فحہ کرتے ہوئے گورنر لارڈ برابورن نے کہا کہ کتنا خوب صورت نوجوان ہے۔ امداد علی خان نے گورنر صاحب کی تعریف پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گورنر صاحب خود خوبصورت ہیں۔ اپنی باری آنے پر قائد عوام جناب بھٹو نے کہا کہ ایکسی لینسی گورنر صاحب اس لئے خوبصورت ہیں کیونکہ وہ ہمارے خوبصورت ملک کے خون پر پلتے ہیں قائد عوام کی بات سن کر لارڈبرابورن ششدر رہ گئے ایک لمحے تک وہ حیرت سے قائد عوام کی طرف دیکھتے رہے پھر انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے سر شاہنوا زخان بھٹو سے کہا کہ سر شاہنواز آپ کا بیٹا شاعر اور انقلابی ہے ۔ دعوت سے واپسی کے بعد گھر آتے ہی سر شاھنوا ز خان نے جناب بھٹو سے کہاکہ ’’ بیٹے وہاں ایسی بات کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ بھٹو صاحب نے انتہائی جذباتی انداز میں جواب دیا ۔یہ ہمارا ملک ہے اس پر انہوںنے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے۔ دنیا کا ہر وہ ملک جس پر غاصبانہ قبضہ کیا گیا ہے یہ ملک ہمارا ملک ہے یہ کہتے ہوئے قائد عوام رو پڑے ۔
قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ابتدائی تعلیم لاڑکانہ اور پھر ممبئی میںحاصل کی اس کے بعدان کو اعلیٰ تعلیم کیلئے لندن بھیج دیا گیا ۔ پیلو مودی جو قائد عوام بھٹو کے کلاس فیلو رہے کا کہنا ہے کہ زمانہ طالب علمی کے دوران بھٹو صاحب انتہائی حساس مزاج کے حامل آزادی کی تحریکوں کے بہت بڑے حامی اور قائداعظم محمد علی جناح کے بہت بڑے مداح تھے ، زمانہ طالب علمی کے دوران ہی قائد عوام ذوالفقار بھٹو شہید نے دنیا کی سیاسی تاریخ ازبر کرلی تھی ۔ ان کو دنیا کی جغرافیائی تاریخ اور دنیا میں بسنے والی قوموں کی تہذیب کا علم تھا۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد قائد عوام جناب ذو الفقار علی بھٹوشہید وطن واپس تشریف لائے اور وکالت کا پیشہ اختیار کیا ۔جنرل ایوب خان نے ان کو کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت دی تاکہ آپکی ذہانت اور قابلیت ملک اور قوم کے کام آئے تو قائد عوام ذوالفقار بھٹو شہید انکارنہ کرسکے ۔ آپکی پہلی ترجیح یہ تھی کہ دنیا پر کسی ایک خاص قوت کو اجارہ داری حاصل نہ ہو ۔وہ نوآبادیاتی نظام کے سخت مخالف تھے انہوںنے سویت یونین اور چین سے قریبی دوستانہ تعلقات قائم کئے ۔ 1965ء کی جنگ کے بعد جب تاشقند معاہدہ ہوا تو قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہوگئے ۔ 30نومبر 1967ء کو انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ اسلام ہمارا دین ہے جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام کے منشور کے ساتھ روٹی ، کپڑا ور مکان کا پروگرام دیا ۔ آپ نے سیاست کو محلات کے ڈرائنگ روم سے نکال کر کچے گھروں کے مکینوں کی دہلیز پرلا کر کھڑا کردیا اور فرمایا سیاسی جنت عوام کے قدموں میں ہے ۔ یہ ایک فلاسفی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کا اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہیں اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کرلیں اور جس کو چاہیں اپنے ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیں۔ قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹوشہید کی سیاست محور غریب اور محنت کش عوام اور کچلے ہوئے طبقات تھے۔ انہوں نے اپنی سحر انگیز اور کرشمہ ساز شخصیت کے ذریعے عوام کو سوچنے کیلئے سیاسی شعور بخشا، بولنے کیلئے زبان دی اور سر اٹھا کر جینے کا ڈھنگ سکھایا ۔
1970ء میں عام انتخابات ہوئے عوام نے قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے نامزد امیدواروں کو انتخابات میں شاندار فتح سے سرفراز کیا ۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹوکو عزت ، احترام اور وقار عطا کیا تھا ۔ کوئی شبہ نہیں کہ بہت بڑی جاگیر دولت اور عزت ان کو ورثے میں ملی تھی اور انہوںنے زندگی میں ہر لمحے پر اس عزت وقار اور بہادری کوملحوظ خاطر رکھاان کو اپنے ملک اور قوم کی عزت وقار اور آزادی بہت عزیز تھی۔ اسکی مثال ان کا 14دسمبر1971ء کو سلامتی کونسل سے خطاب ہے۔ سلامتی کونسل سے ان کا خطاب ایک انقلابی شاعر کا خطاب تھا ۔ انہوںنے فرمایا کہ سلامتی کونسل ایک فیشن ہائوس کی مانند ہے جہاں بے سرے اور بے ڈھنگے سراپوںکو چمکیلے لباس پہنائے جاتے ہیں ۔ آج یہاں زمینی حقائق کی بات کی جارہی ہے مگر سرحدوں کے تقدس کا سبق کسی کو یاد نہیں ۔ میں یہاں شکست تسلیم کرنے نہیں آیا اور نہ ہی اپنے ملک کی توہین برداشت کرونگا ۔ کل تک جو ناجائز تھا سلامتی کونسل آج اس کو جائز قرار نہ دے ۔ روس جو ایک کامریڈ ملک ہے کے مندوب ہنس رہے ہیں ۔ میز پر مکے مار رہے ہیں جیسے وہ کامریڈ ملک کے نہیںکسی نازی ملک کے مندوب ہیں آج میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔میں بائیکاٹ نہیں کررہا ۔ سلامتی کونسل آپ کو مبارک ہو میںجارہا ہوں ۔ یہ کہتے ہوئے قائد عوام بھٹو نے اپنی تقریر کے نوٹس پھاڑ دیے اور ایوان سے باہر نکل آئے ۔ قائد عوام بھٹو سے بغض ،نفرت اور تعصب رکھنے والے عناصر ایک عرصے تک یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے کہ قائد عوام بھٹو نے سلامتی کونسل میں پولینڈ کی طرف سے پاکستان کے حوالے سے پیش کردہ قرار داد کو پھاڑ ا تھا اگر وہ قرارداد نہ پھاڑتے تو ملک بچ جاتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قائد عوام بھٹو نے اپنی تقریر کے نوٹس پھاڑے تھے ۔ ویسے بھی سلامتی کونسل میں پولینڈ کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد تھی ہی کیا ؟ افسوس کہ قائد عوام بھٹو کے مخالفوں نے آج تک پولینڈ کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد کو پڑھا تک نہیں جو دراصل ذلت آمیز شکست تسلیم کرانے کی کوشش تھی۔ اسکے بعد کیا ہوتا جی ہاں جنرلوں پر جنگی جرائم کے مقدمے چلائے جاتے اور پاکستان مجرموں کے کٹہرے میںکھڑا ہوتا ۔
غالباً 18دسمبر 1971ء کو قائد عوام نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ۔’’ کہ دنیا سے کہہ دو ہماری پشت سے ہٹ جائے یہاں تک کہ اپنا سایہ بھی دور کردے ہم میں اتنا حوصلہ ضرور ہے کہ ہم اپنے ملک کی دوبارہ تعمیر کریں اور کرکے دکھائیں گے ۔ قائد عوام بھٹو شہید اپنے عزم کے پکے اور قول کے سچے تھے جب شکست کی ذلت سے چور اور راکھ کا ڈھیر بنے ہوئے ملک کی باگ ڈور آپکے حوالے کردی گئی تو ہر سمت تباہی ہی تباہی نظر آرہی تھی ۔ 90ہزار سے زیادہ شہری اور سول و فوجی آفیسر او رجوان جنگی قیدی بن کر بھارت کی جیلوں میں بند تھے ۔ مغربی پاکستان کی پانچ ہزار مربع میل زمین پر بھارتی فوج نے بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کرلیا تھا ۔ قوم مایوسی اور نا امیدی کاشکار تھی ۔ قائد عوام نے اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم سے جو خطاب کیا تھا اس میں فرمایا تھا کہ ’’ ہم نے جنگ ہاری ہے حوصلہ نہیں ہارا ‘‘۔ہم اپنے اس ملک کی دوبارہ تعمیر کرینگے اور قائد عوام نے یہ کرکے دکھایا ۔ انہوں نے بھارت جاکر بھارتی وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی سے کامیاب مذاکرات کئے جس کے باعث دشمن کے قبضے سے مادر وطن کی پانچ ہزارمربع میل زمین واپس ملی اور نوے ہزار شہری اور سول و فوجی آفیسر اور جوان رہا ہوکر باعزت طریقے سے وطن واپس آئے ۔
لارڈ برابورن نے ٹھیک کہا تھا کہ سر شاھنوا ز آپ کا یہ بیٹا شاعر اور انقلابی ہے ۔ سچ بھی یہی ہے کہ :
1938میںسات سالہ ذوالفقار علی بھٹو 4اپریل 1979ء تک ایک شاعر اور انقلابی رہے ۔ موت کی کال کوٹھری بھی انکے عزم کو متزلزل نہیں کرسکی اور نہ ہی موت کی کالی کوٹھٹری ورثے میں ملی ہوئی بہادری اور حوصلہ ان سے چھین سکی۔
کوئی مانے نہ مانے مگر سچ یہ ہے کہ قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ایک نئے پاکستان کی تخلیق کی تھی ایسا پاکستان جس نے پہلی بار آزادی کی سانس لی تھی، وہ پاکستان جس نے غیروں کی غلامی کی زنجیریں توڑ کر خودداری کی طرف قدم اٹھایا تھا، ایسے پاکستان کی تعمیر کی جو اپنے شہریوں کیلئے ایک فلاحی ریاست بن گئی تھی جہاں امیر اور غریب کا فرق مٹ چکا تھا، جہاں طبقاتی نظام زمیں بوس ہو چکا تھا جمہوریت پرست قائد عوام بھٹونے اس ملک کو پہلی بار 1973ء کا متفقہ آئین دیکر عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو بااختیار بنایا تھا انہوںنے دشمن کے عزائم خاک میں ملا نے کی خاطر ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تا کہ کوئی دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکے ۔ انہوں نے ہیوی مکینیکل کمپلیکس بنایا جہاں ا سلحہ اور ٹینک تیار ہوتے ہیں اس ادارے کی تخلیق الخالد ٹینک کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس بنایا یہ ادارہ آج ملک کے دفاع کا ضامن ہے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے ملک میں بسنے والی قومیتوں کی ثقافت سے بہت پیا رتھا وہ اس حقیقت سے باخبر تھے کہ قومیتوں کی شناخت کیلئے ملک میں بسنے والی تمام قومیتوں کی تہذیب اور ثقافت کو زندہ رکھنا ضروری ہے ۔
مجھے یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے ہمارے اس پیارے وطن کو دوبارہ تعمیر کر کے ایک باوقار، خود مختار اور خود دار ملک بنایا۔ اس باوقار اور خوددار وطن کو بعض عناصر کی نظر بد لگ گئی اور دردناک حقیقت یہ ہے کہ 5جولائی1977کو ہمارا پیاراملک لالچی اور ہوس پرستوں کے ہتھے چڑھ گیا جنہوں نے اپنے ناجائز، غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقتدار کی خاطر ہمارے پیارے وطن کو تختہ مشق بنایا۔ ہمارے عظیم قائد ذوالفقار علی بھٹو شہیدنے جس نئے پاکستان آزاد، خود مختار اور خوددار ملک کی تعمیر کی تھی 5جولائی1977ء کو خود غرض اور لالچی عناصر نے اپنے اقتدار کی خاطر اسے غیروں کے ہاتھ گروی رکھ دیا۔ ان خود غرض اور ہوس کے مارے اقتدار پرستوں کے اعمال کا خمیازہ عوام آج تک بھگت رہے ہیں ۔ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے جب میںماضی کے واقعات یاد کرتا ہوں تو مجھے ابکائیاں آنے لگتی ہیں ۔ کاش،5جولائی1977ء کا سانحہ وقو ع پذیر نہ ہوتا تو ہمارے ملک کا یہ حال نہ ہوتا۔

قمر زمان کائرہ

Qamar Zaman Kaira Secretary Information Pakistan Peoples Party and Former Governor of Gilgit–Baltistan / Minister of Kashmir Affairs and Northern Areas / Minister of Information and Mass-Media Broadcasting /

Qamar Zaman Kaira
Secretary Information Pakistan Peoples Party
and Former Governor of Gilgit–Baltistan / Minister of Kashmir Affairs and Northern Areas / Minister of Information and Mass-Media Broadcasting  Government of Pakistan

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s