Tagged: humanity

‪#‎WhatDoesItTake‬ to protect the #childrenOfsyria?


Syria Crisis – 4 Years On

  • ◘ 14 million Children impacted by conflict in Syria & Iraq – UNICEF
  • ◘ the situation of more than 5.6 million children inside the country remains the most desperate
  • ◘ 2.6 million Syrian children are still out of school
  • ◘ 2 million Syrian children are living as refugees in Lebanon, Turkey, Jordan and other countries
  • ◘ 3.6 million children from vulnerable communities hosting refugees
  • ◘ crisis gripping Iraq has forced more than 2.8 million children from their homes, and left many trapped in areas controlled by armed groups
  • ◘ generation of young people is still in danger of being lost to a cycle of violence
  • ◘ Despite the upheaval caused by the conflict, children and young people continue to demonstrate incredible courage and determination
  • ◘ “Despite the harm they have suffered, the wrongs they have endured, and the apparent inability of adults to bring an end to this horrific conflict, the children affected by this crisis still have courage and determination to build better lives,”
  • ◘ “Seeing their determination, how can we be any less determined to help them? Knowing that they have not given up hope, how can we?” – UNICEF Executive Director Anthony Lake

Donate now  for the #ChildrenOfSyria 

icare

Advertisements

Zardari to inaugurate Asia’s biggest RO plant in Mithi

zardari



  • A whopping Rs5.4 billion allocation has been made by the provincial government for the project
  • The Sindh government plans to install 300 reverse osmosis (RO)
  • The number of the ROs already made operational is 150
  • 750 plants had been procured along with solar system and allied equipment
  • ‘Asia’s largest (capacity-wise) RO water filter plant’ , a 2 mgd (million gallon per day)
  • It has a treating capacity of 4,000 to 15,000 PPM of total dissolved solids (TDS)
  • “It is solar energy that matters here in this region as it makes operation of ROs cost effective,” says PPP Senator Taj Hyder
  • The biggest RO plant at Misri Shah RO has been established at a cost of Rs300 million
  • Smaller plants having a capacity of 10,000 gallons per day have been set up across the region at a cost of around Rs2.5 million each.
  • Chhachhro taluka and certain other parts of Thar will now get great relief
  • It is to be inaugurated on Wednesday by Pakistan Peoples Party co-chairman and former president of the country Asif Ali Zardari

    B6Ak66zCAAI-BIz

    important links ...

 

Pakistan Peoples Party: News updates

HRO

MITHI: Sahji, an elderly resident of Chhahu village in Chachhro taluka of Tharparkar, walks up to a water reservoir in Sanwaryo-jo-Par, located about one kilometre away from her village, to fill a few buckets tied to the back of a donkey and take them home.

It’s her daily routine. The water available to the people living in villages surrounding the reservoir for drinking and all other purposes is untreated. It is supplied through a pipeline originating from a canal in Kunri.

But the population of Chhachhro taluka and certain other parts of Thar will now get great relief not only from a shortage of the most essential commodity but also from water-borne diseases as the region these days is witnessing a brisk activity in the water sector.

The Sindh government plans to install 300 reverse osmosis (RO) plants in water-starved regions of the province by February. The number of the…

View original post 368 more words

It’s Gratefullness that makes you Happy – David Steindl-Rast



Stumbled upon a video that i felt my responsibility to share with you it’s a video of Catholic Benedictine monk Brother David Steindl-Rast, in this video he offers a different path to happiness, he says

  A grateful world  is a world of joyful people and the grateful people are joyful people

and the path to happiness is the practice of being grateful and sharing your gratitude with others. In his view, happiness is yours if you’re mindful in the moment and “ stop, look, go ” to transform the world to make it a happy place.

David-Steindl-Rast-It-is-not-happiness-that-makes-us-grateful-it-is-gratefulness-that-makes-us-happy

David Steindl-Rast  : Interfaith Scholar

No One Else Can Play Your Part #AfterMidnight15



it’s possible to change. Perhaps it’s possible to start again. Perhaps it’s possible for things to be new. We know that change takes more than a moment, and we aren’t saying it will be easy, but we’re saying that it’s worth it. This life. Your story. Your pain. Your hope. It matters. All of it matters. You’re loved. You matter to this world and you matter to the people who love you. So stay. Please stay. No one else can play your part.

no one else can play your part

find out more, visit twloha.com/.


میرا قائد – ہم نے جنگ ہاری ہے حوصلہ نہیں ہارا @QamarzKaira

5 January 1928 – 4 April 1979 — Zulfiqar Ali Bhutto Peoples Leader & founder Pakistan Peoples Party was the ninth Prime Minister of Pakistan (1973–77) and its fourth President (1971–73)

5 January 1928 – 4 April 1979 — Zulfiqar Ali Bhutto Peoples Leader & founder Pakistan Peoples Party was the ninth Prime Minister of Pakistan (1973–77) and its fourth President (1971–73)

(قمر زمان کائرہ (06 جنوری 2011

قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے 5جنوری 1928ء کو لاڑکانہ میں جنم لیا ۔آپکے والد سر شاہنواز خان بھٹو کو برصغیر کی سیاست میں اہم مقام حاصل تھا ۔ آپ نے سندھ کو بمبئی سے الگ کروایا تھا تاکہ سندھ کے عوام کو سرکاری یاعدالتی کام کی وجہ سے طویل اور تکلیف دہ سفر کی زحمت سے بچایا جاسکے ۔ سرشاہنواز خان بھٹو نے اپنے صاحبزادے جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی تربیت پر خاص تو جہ دی تھی اس حوالے سے وہ آپ کو اپنے خاندان کی عزت ، وقار ، بہادری اور انسانیت کی خدمت کے قصے سنایا کرتے تھے جبکہ آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو غربیوں کی مدد اور مظلوموں کی حمایت کی نصیحت کیا کرتی تھیں ۔ قائد عوام بھٹو شہید نے اپنے خاندان کی عزت ، وقار اور بہادری کے پس منظر اور والدہ ماجدہ کی طرف سے کی ہوئی نصیحتوں کو اپنی شخصیت میں ڈھال دیا تھا ۔ روایت ہے کہ ۔
1935ء کے دوران سر شاہنوا زخان بھٹو بمبئی میں وزیر تھے ۔برطانوی راج کا زمانہ تھا ایک دن گورنر لارڈ برابورن نے سر شاہنوا زخان بھٹو کو اپنے صاحبزادوں کے ساتھ کھانے پر مدعو کیا ۔ سر شاہنوا ز خان بھٹوکے بڑے صاحبزادے امداد علی خان بھٹو انتہائی خوب صورت نوجوان تھے سے مصا فحہ کرتے ہوئے گورنر لارڈ برابورن نے کہا کہ کتنا خوب صورت نوجوان ہے۔ امداد علی خان نے گورنر صاحب کی تعریف پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گورنر صاحب خود خوبصورت ہیں۔ اپنی باری آنے پر قائد عوام جناب بھٹو نے کہا کہ ایکسی لینسی گورنر صاحب اس لئے خوبصورت ہیں کیونکہ وہ ہمارے خوبصورت ملک کے خون پر پلتے ہیں قائد عوام کی بات سن کر لارڈبرابورن ششدر رہ گئے ایک لمحے تک وہ حیرت سے قائد عوام کی طرف دیکھتے رہے پھر انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے سر شاہنوا زخان بھٹو سے کہا کہ سر شاہنواز آپ کا بیٹا شاعر اور انقلابی ہے ۔ دعوت سے واپسی کے بعد گھر آتے ہی سر شاھنوا ز خان نے جناب بھٹو سے کہاکہ ’’ بیٹے وہاں ایسی بات کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ بھٹو صاحب نے انتہائی جذباتی انداز میں جواب دیا ۔یہ ہمارا ملک ہے اس پر انہوںنے غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے۔ دنیا کا ہر وہ ملک جس پر غاصبانہ قبضہ کیا گیا ہے یہ ملک ہمارا ملک ہے یہ کہتے ہوئے قائد عوام رو پڑے ۔
قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ابتدائی تعلیم لاڑکانہ اور پھر ممبئی میںحاصل کی اس کے بعدان کو اعلیٰ تعلیم کیلئے لندن بھیج دیا گیا ۔ پیلو مودی جو قائد عوام بھٹو کے کلاس فیلو رہے کا کہنا ہے کہ زمانہ طالب علمی کے دوران بھٹو صاحب انتہائی حساس مزاج کے حامل آزادی کی تحریکوں کے بہت بڑے حامی اور قائداعظم محمد علی جناح کے بہت بڑے مداح تھے ، زمانہ طالب علمی کے دوران ہی قائد عوام ذوالفقار بھٹو شہید نے دنیا کی سیاسی تاریخ ازبر کرلی تھی ۔ ان کو دنیا کی جغرافیائی تاریخ اور دنیا میں بسنے والی قوموں کی تہذیب کا علم تھا۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد قائد عوام جناب ذو الفقار علی بھٹوشہید وطن واپس تشریف لائے اور وکالت کا پیشہ اختیار کیا ۔جنرل ایوب خان نے ان کو کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت دی تاکہ آپکی ذہانت اور قابلیت ملک اور قوم کے کام آئے تو قائد عوام ذوالفقار بھٹو شہید انکارنہ کرسکے ۔ آپکی پہلی ترجیح یہ تھی کہ دنیا پر کسی ایک خاص قوت کو اجارہ داری حاصل نہ ہو ۔وہ نوآبادیاتی نظام کے سخت مخالف تھے انہوںنے سویت یونین اور چین سے قریبی دوستانہ تعلقات قائم کئے ۔ 1965ء کی جنگ کے بعد جب تاشقند معاہدہ ہوا تو قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہوگئے ۔ 30نومبر 1967ء کو انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی ۔ اسلام ہمارا دین ہے جمہوریت ہماری سیاست ہے۔ سوشلزم ہماری معیشت ہے اور طاقت کا سرچشمہ عوام کے منشور کے ساتھ روٹی ، کپڑا ور مکان کا پروگرام دیا ۔ آپ نے سیاست کو محلات کے ڈرائنگ روم سے نکال کر کچے گھروں کے مکینوں کی دہلیز پرلا کر کھڑا کردیا اور فرمایا سیاسی جنت عوام کے قدموں میں ہے ۔ یہ ایک فلاسفی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کا اختیار ہے کہ وہ جس کو چاہیں اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کرلیں اور جس کو چاہیں اپنے ووٹ کے ذریعے مسترد کر دیں۔ قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹوشہید کی سیاست محور غریب اور محنت کش عوام اور کچلے ہوئے طبقات تھے۔ انہوں نے اپنی سحر انگیز اور کرشمہ ساز شخصیت کے ذریعے عوام کو سوچنے کیلئے سیاسی شعور بخشا، بولنے کیلئے زبان دی اور سر اٹھا کر جینے کا ڈھنگ سکھایا ۔
1970ء میں عام انتخابات ہوئے عوام نے قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے نامزد امیدواروں کو انتخابات میں شاندار فتح سے سرفراز کیا ۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹوکو عزت ، احترام اور وقار عطا کیا تھا ۔ کوئی شبہ نہیں کہ بہت بڑی جاگیر دولت اور عزت ان کو ورثے میں ملی تھی اور انہوںنے زندگی میں ہر لمحے پر اس عزت وقار اور بہادری کوملحوظ خاطر رکھاان کو اپنے ملک اور قوم کی عزت وقار اور آزادی بہت عزیز تھی۔ اسکی مثال ان کا 14دسمبر1971ء کو سلامتی کونسل سے خطاب ہے۔ سلامتی کونسل سے ان کا خطاب ایک انقلابی شاعر کا خطاب تھا ۔ انہوںنے فرمایا کہ سلامتی کونسل ایک فیشن ہائوس کی مانند ہے جہاں بے سرے اور بے ڈھنگے سراپوںکو چمکیلے لباس پہنائے جاتے ہیں ۔ آج یہاں زمینی حقائق کی بات کی جارہی ہے مگر سرحدوں کے تقدس کا سبق کسی کو یاد نہیں ۔ میں یہاں شکست تسلیم کرنے نہیں آیا اور نہ ہی اپنے ملک کی توہین برداشت کرونگا ۔ کل تک جو ناجائز تھا سلامتی کونسل آج اس کو جائز قرار نہ دے ۔ روس جو ایک کامریڈ ملک ہے کے مندوب ہنس رہے ہیں ۔ میز پر مکے مار رہے ہیں جیسے وہ کامریڈ ملک کے نہیںکسی نازی ملک کے مندوب ہیں آج میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔میں بائیکاٹ نہیں کررہا ۔ سلامتی کونسل آپ کو مبارک ہو میںجارہا ہوں ۔ یہ کہتے ہوئے قائد عوام بھٹو نے اپنی تقریر کے نوٹس پھاڑ دیے اور ایوان سے باہر نکل آئے ۔ قائد عوام بھٹو سے بغض ،نفرت اور تعصب رکھنے والے عناصر ایک عرصے تک یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے کہ قائد عوام بھٹو نے سلامتی کونسل میں پولینڈ کی طرف سے پاکستان کے حوالے سے پیش کردہ قرار داد کو پھاڑ ا تھا اگر وہ قرارداد نہ پھاڑتے تو ملک بچ جاتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قائد عوام بھٹو نے اپنی تقریر کے نوٹس پھاڑے تھے ۔ ویسے بھی سلامتی کونسل میں پولینڈ کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد تھی ہی کیا ؟ افسوس کہ قائد عوام بھٹو کے مخالفوں نے آج تک پولینڈ کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد کو پڑھا تک نہیں جو دراصل ذلت آمیز شکست تسلیم کرانے کی کوشش تھی۔ اسکے بعد کیا ہوتا جی ہاں جنرلوں پر جنگی جرائم کے مقدمے چلائے جاتے اور پاکستان مجرموں کے کٹہرے میںکھڑا ہوتا ۔
غالباً 18دسمبر 1971ء کو قائد عوام نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ۔’’ کہ دنیا سے کہہ دو ہماری پشت سے ہٹ جائے یہاں تک کہ اپنا سایہ بھی دور کردے ہم میں اتنا حوصلہ ضرور ہے کہ ہم اپنے ملک کی دوبارہ تعمیر کریں اور کرکے دکھائیں گے ۔ قائد عوام بھٹو شہید اپنے عزم کے پکے اور قول کے سچے تھے جب شکست کی ذلت سے چور اور راکھ کا ڈھیر بنے ہوئے ملک کی باگ ڈور آپکے حوالے کردی گئی تو ہر سمت تباہی ہی تباہی نظر آرہی تھی ۔ 90ہزار سے زیادہ شہری اور سول و فوجی آفیسر او رجوان جنگی قیدی بن کر بھارت کی جیلوں میں بند تھے ۔ مغربی پاکستان کی پانچ ہزار مربع میل زمین پر بھارتی فوج نے بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کرلیا تھا ۔ قوم مایوسی اور نا امیدی کاشکار تھی ۔ قائد عوام نے اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم سے جو خطاب کیا تھا اس میں فرمایا تھا کہ ’’ ہم نے جنگ ہاری ہے حوصلہ نہیں ہارا ‘‘۔ہم اپنے اس ملک کی دوبارہ تعمیر کرینگے اور قائد عوام نے یہ کرکے دکھایا ۔ انہوں نے بھارت جاکر بھارتی وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی سے کامیاب مذاکرات کئے جس کے باعث دشمن کے قبضے سے مادر وطن کی پانچ ہزارمربع میل زمین واپس ملی اور نوے ہزار شہری اور سول و فوجی آفیسر اور جوان رہا ہوکر باعزت طریقے سے وطن واپس آئے ۔
لارڈ برابورن نے ٹھیک کہا تھا کہ سر شاھنوا ز آپ کا یہ بیٹا شاعر اور انقلابی ہے ۔ سچ بھی یہی ہے کہ :
1938میںسات سالہ ذوالفقار علی بھٹو 4اپریل 1979ء تک ایک شاعر اور انقلابی رہے ۔ موت کی کال کوٹھری بھی انکے عزم کو متزلزل نہیں کرسکی اور نہ ہی موت کی کالی کوٹھٹری ورثے میں ملی ہوئی بہادری اور حوصلہ ان سے چھین سکی۔
کوئی مانے نہ مانے مگر سچ یہ ہے کہ قائد عوام جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے ایک نئے پاکستان کی تخلیق کی تھی ایسا پاکستان جس نے پہلی بار آزادی کی سانس لی تھی، وہ پاکستان جس نے غیروں کی غلامی کی زنجیریں توڑ کر خودداری کی طرف قدم اٹھایا تھا، ایسے پاکستان کی تعمیر کی جو اپنے شہریوں کیلئے ایک فلاحی ریاست بن گئی تھی جہاں امیر اور غریب کا فرق مٹ چکا تھا، جہاں طبقاتی نظام زمیں بوس ہو چکا تھا جمہوریت پرست قائد عوام بھٹونے اس ملک کو پہلی بار 1973ء کا متفقہ آئین دیکر عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو بااختیار بنایا تھا انہوںنے دشمن کے عزائم خاک میں ملا نے کی خاطر ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تا کہ کوئی دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکے ۔ انہوں نے ہیوی مکینیکل کمپلیکس بنایا جہاں ا سلحہ اور ٹینک تیار ہوتے ہیں اس ادارے کی تخلیق الخالد ٹینک کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس بنایا یہ ادارہ آج ملک کے دفاع کا ضامن ہے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے ملک میں بسنے والی قومیتوں کی ثقافت سے بہت پیا رتھا وہ اس حقیقت سے باخبر تھے کہ قومیتوں کی شناخت کیلئے ملک میں بسنے والی تمام قومیتوں کی تہذیب اور ثقافت کو زندہ رکھنا ضروری ہے ۔
مجھے یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے ہمارے اس پیارے وطن کو دوبارہ تعمیر کر کے ایک باوقار، خود مختار اور خود دار ملک بنایا۔ اس باوقار اور خوددار وطن کو بعض عناصر کی نظر بد لگ گئی اور دردناک حقیقت یہ ہے کہ 5جولائی1977کو ہمارا پیاراملک لالچی اور ہوس پرستوں کے ہتھے چڑھ گیا جنہوں نے اپنے ناجائز، غیر آئینی اور غیر اخلاقی اقتدار کی خاطر ہمارے پیارے وطن کو تختہ مشق بنایا۔ ہمارے عظیم قائد ذوالفقار علی بھٹو شہیدنے جس نئے پاکستان آزاد، خود مختار اور خوددار ملک کی تعمیر کی تھی 5جولائی1977ء کو خود غرض اور لالچی عناصر نے اپنے اقتدار کی خاطر اسے غیروں کے ہاتھ گروی رکھ دیا۔ ان خود غرض اور ہوس کے مارے اقتدار پرستوں کے اعمال کا خمیازہ عوام آج تک بھگت رہے ہیں ۔ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے جب میںماضی کے واقعات یاد کرتا ہوں تو مجھے ابکائیاں آنے لگتی ہیں ۔ کاش،5جولائی1977ء کا سانحہ وقو ع پذیر نہ ہوتا تو ہمارے ملک کا یہ حال نہ ہوتا۔

قمر زمان کائرہ

Qamar Zaman Kaira Secretary Information Pakistan Peoples Party and Former Governor of Gilgit–Baltistan / Minister of Kashmir Affairs and Northern Areas / Minister of Information and Mass-Media Broadcasting /

Qamar Zaman Kaira
Secretary Information Pakistan Peoples Party
and Former Governor of Gilgit–Baltistan / Minister of Kashmir Affairs and Northern Areas / Minister of Information and Mass-Media Broadcasting  Government of Pakistan

Nasty Words …

Birth Anniversery of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah, Chirstmas and Benazir Bhutto !

Benazir Bhutto. Shot to death, at close range, Rawalpindi, Pakistan, December 27, 2007.

Benazir Bhutto. Shot to death, at close range, Rawalpindi, Pakistan, December 27, 2007. (Photo – Laurel)

It’s the day of 25th December, 2001 when newspapers published the messages of The Great leader of the East Shaheed Mohtarma Benazir Bhutto (SMBB) on the occasions of birth anniversary of Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah and the Christmas.


SMBB felicitated the nation on the Quaid’s birth anniversary and in her message she said


Quaid Azam Muhammad Ali Jinnah ( 25 December 1876 – 11 September 1948 )

Quaid Azam Muhammad Ali Jinnah ( 25 December 1876 – 11 September 1948 )

” December 25 was a day of reaffirming dedication to the ideals and principles of the father the nation.

But it also is a day of introspection and reflection to pause and ponder as to how far we have upheld the ideals and principles for which the Quaid created this homeland of ours

Quaid stood for constitutionalism, rule of law and respect for human rights. It is a sad thought that on his birthday this year, his ideals of a pluralistic society where every citizen has equal rights, opportunities and responsibilities irrespective of religion, sect, colour, race or creed is at stake.

Quaid stood for equality before law, but the rulers today were bending, breaking and making special laws with retrospective effect only to malign the genuine leaders of the masses.

SMBB warned that the country’s future would remain exposed to external and internal threats unless the rule of law took deep roots in the society and everyone was treated on equal basis.

As followers of the great leader, “let us pledge to pursue the ideals of rule of law and reject discrimination as a philosophy to govern”

 Quaid-e-Azam-Quotes-For-Pakistan


SMBB also felicitated Christian community on the eve of Christmas and in her message she said


“I wish to felicitate Christians all over the world particularly our Christian brothers and sisters in Pakistan on the auspicious occasion of Christmas.

This day reminds us of the teaching of Jesus Christ (May Allah be pleased with him) who always spread the message of love, forgiveness and brotherhood among the people without any prejudice and discrimination.

The PPP would continue to fight along with the Christian community for the rights of all the minorities and deprived people and for establishing a liberal and pluralistic society in which every citizen was allowed to vote irrespective of his/ her cast, creed and colour.

If the PPP came into power it would strive to restore the joint electorate system as envisaged in the 1973 Constitution.

Disallowing the non-Muslims from voting freely along with the Muslim voters in the elections amounts to their disenfranchisement.

It also means surrendering before the extremists and encouraging them to foist their intolerant agenda on the people.

If this slide into the abyss of extremism is not halted Pakistan runs the risk of descending into chaos, lawlessness and anarchy.

christmas kids

Addressing the needs of children affected by the Syrian crisis !

Standing for the funeral procession of a jew ! Prophet Muhammad (PBUH) #Respect #Humanity


bukhari book 23, hadith 399



Sahl bin Hunaif and Qais bin Sa`d were sitting in the city of Al-Qadisiya. A funeral procession passed in front of them and they stood up. They were told that funeral procession was of one of the inhabitants of the land i.e. of a non-believer, under the protection of Muslims. They said, “A funeral procession passed in front of the Prophet (ﷺ) and he stood up. When he was told that it was the coffin of a Jew, he said, “Is it not a living being (soul)?”



Urdu Translation

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ۔ انہوں نے کہا کہ سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں کسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اتنے میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں بزرگ کھڑے ہو گئے ۔ عرض کیا گیا کہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے ( جو کافر ہیں ) اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ یہ تو یہودی کا جنازہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہودی کی جان نہیں ہے ؟ اور ابوحمزہ نے اعمش سے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ میں قیس اور سہل رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ۔ ان دونوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ اور زکریا نے کہا ان سے شعبی نے اور ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ ابومسعود اور قیس رضی اللہ عنہما جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے ۔



باب مَنْ قَامَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كَانَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ وَقَيْسُ بْنُ سَعْدٍ قَاعِدَيْنِ بِالْقَادِسِيَّةِ، فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِجَنَازَةٍ فَقَامَا‏.‏ فَقِيلَ لَهُمَا إِنَّهَا مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ، أَىْ مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ فَقَالاَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ‏.‏ فَقَالَ ‏ “‏ أَلَيْسَتْ نَفْسًا ‏”‏‏.‏ وَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ كُنْتُ مَعَ قَيْسٍ وَسَهْلٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَقَالاَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ زَكَرِيَّاءُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى كَانَ أَبُو مَسْعُودٍ وَقَيْسٌ يَقُومَانِ لِلْجِنَازَةِ‏.‏



Bahasa Indonesia

Telah menceritakan kepada kami Adam telah menceritakan kepada kami Syu’bah telah menceritakan kepada kami ‘Amru bin Murrah berkata; Aku mendengar ‘Abdurrahman bin Abu Laila berkata,: “Suatu hari Sahal bin Hunaif dan Qais bin Sa’ad sedang duduk di Qadisiyah, lalu lewatlah jenazah di hadapan keduanya, maka keduanya berdiri. Kemudian dikatakan kepada keduanya bahwa jenazah itu adalah dari penduduk asli, atau dari Ahlu dzimmah. Maka keduanya berkata,: “Nabi Shallallahu’alaihiwasallam pernah jenazah lewat di hadapan Beliau lalu Beliau berdiri. Kemudian dikatakan kepada Beliau bahwa itu adalah jenazah orang Yahudi. Maka Beliau bersabda: “Bukankah ia juga memiliki nyawa?” Dan berkata Abu Hamzah dari Al A’masy dari ‘Amru dari Ibnu Abu Laila berkata,: “Aku pernah bersama Qais dan Sahl Radliallahu ‘anhu, lalu keduanya berkata; Kami pernah bersama Nabi Shallallahu’alaihiwasallam. Dan berkata, Zakariya dari Sya’biy dari Ibnu Abi Laila, dulu Abu Mas’ud dan Qais berdiri untuk jenazah.



Reference : Sahih al-Bukhari 1312, 1313
In-book reference : Book 23, Hadith 71
USC-MSA web (English) reference : Vol. 2, Book 23, Hadith 399
 (deprecated numbering scheme)

Eight Famous Sayings of Ashfaq Ahmed

ashfaq-ahmed-bilawal Says

بڑے درخت پھل زیادہ نہیں دیتے، سایہ زیادہ دیتے ہیں


محبت کو تقسیم نہیں کیا کرتے محبت کو ضرب دیا کرتے ہیں


بیوقوف لوگ اپنے ذہن پر کنٹرول کی بجائے دوسروں کے ذہنوں پر طاقت آزمائی شروع کر دیتے ہیں


اپنی انا کو کسی ایک شخص کے سامنے ختم کرنے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا کو سب کے سامنے ختم کرنا عشق حقیقی ہے


انسان کے دل میں خدا کی مہربانی سے ایک ایسا تار ضرور موجود ہے کہ وہ لوٹ کر خدا کی طرف ضرور آتا ہے۔ چاہے وہ کسی بھی روپ میں آئے


لوگ میک اپ کا خیال کرتے ہیں اچھی خوراک کا کرتے ہیں اچھے لباس کا کرتے ہیں پر اچھی سوچ کا خیال نہیں کرتے اور سب سے خاص وہی ہوتی ہے


آپ اپنی خوشیوں کا گلا گهونٹ کر جب پریشان حالوں کی مدد کرتے هیں تو خوشی خودبخود آپ کی طرف سفر شروع کر دیتی هے


محبت کی سب سے بڑی قسم پیسے اور شہرت کی ہے ،باکی قسمیں غریبوں نے اپنا دل خوش کرنے کے لے نکالی ہوئی ہیں